اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کے مغربی صوبہ لحج اور جنوبی تعز کے محاذوں پر یمنی مسلح افواج کی متعدد پیش قدمیوں کے ساتھ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ روز سرحدی صوبے صعدہ کے کئی اضلاع پر شدید حملے کیے۔ یمن کے فضائی دفاع کی جانب سے سعودی جنگی طیاروں کی کئی لہروں کو روکنے کے بعد ریاض نے صعدہ کے متعدد اضلاع، جن میں مران بھی شامل ہے، پر میزائل حملے کیے۔
لبنان کے اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، سعودی فضائی حملوں کی تعداد 18 سے تجاوز کر گئی۔ یہ حملے میزائل حملوں کے ساتھ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری سعودی عرب کی فوجی تیاریوں کا حصہ تھے، جن کا مقصد جنوبی یمن کے سرحدی محاذوں کو دوبارہ فعال کرنا اور صوبہ صعدہ کی سرحد کے ذریعے پیش قدمی کی کارروائی کرنا تھا۔
سعودی فضائی حملوں میں اضافے کے جواب میں یمنی مسلح افواج نے بھی باخبر ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں اہم مقامات کو نشانہ بنایا۔ سعودی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کارکنوں نے اس علاقے میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع دی۔ اطلاعات کے مطابق یہ دھماکے زیادہ تر الخبر شہر اور بقیق کے اطراف میں ہوئے۔ عینی شاہدین نے محلہ الخزامی کے رہائشیوں کے حوالے سے بتایا کہ دھماکوں کی آوازوں کے ساتھ شدید لرزش بھی محسوس کی گئی۔
یمنی مسلح افواج کی پیش قدمی اور ریاض حمایت یافتہ محاذوں کا خاتمہ
تاہم سعودی فضائی حملوں میں اضافے کے باوجود جنوبی تعز اور مغربی لحج میں سعودی حمایت یافتہ کئی محاذوں کا خاتمہ نہ روکا جا سکا۔ زمینی ذرائع نے تصدیق کی کہ یمنی مسلح افواج نے ریاض کے اتحادی مسلح گروہوں کے خلاف ایک وسیع حملے کے دوران مغربی لحج میں المنصوره اور رأس العاره کے محاذوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
ان ذرائع نے مزید بتایا کہ الاغبرہ محاذ کے المتحہ، حجرہ بجاش اور النقیل کے علاقوں میں بھی جھڑپیں جاری ہیں۔ یمنی مسلح افواج اس سے قبل المنصوره کے عقبی علاقے اور ذی عہدہ پہاڑ پر بھی قبضہ کر چکی تھیں۔ یہ ایک اہم پہاڑی سلسلہ ہے جو مشرقی جانب سے باب المندب آبنائے پر نظر رکھتا ہے۔
یمنی مسلح افواج نے ضلع حیفان کے متعدد اہم پہاڑی علاقوں اور الشمایتین اور المواسط کے محاذوں پر بھی پیش قدمی کی اور جنوبی تعز میں التربہ شہر کی جانب بڑھیں۔
سعودی اتحادی فورسز کے ٹھکانوں پر میزائل حملے
اسی دوران مقامی ذرائع نے بتایا کہ یمنی مسلح افواج نے لحج صوبے کے خور عمیرہ کے علاقے قعوہ میں سعودی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے اجتماع اور منظم کیے جانے والے اہلکاروں کو کئی بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
اس تحریک نے جنوبی تعز کے عزلۃ الاصابح کے علاقے میں واقع العفاء کیمپ میں حزب الاصلاح کے اہلکاروں کے اجتماع کو بھی نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق حزب الاصلاح سے وابستہ چوتھی بریگیڈ کو اس وقت میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا جب اس نے جنوبی یمن کے مختلف صوبوں سے تعز میں لڑائی کے لیے بھیجے گئے سیکڑوں شدت پسند اہلکاروں کو اپنے ہاں جگہ دی تھی۔
العمالقہ میں دھڑے بندی؛ جنوبی فورسز سے غداری کا الزام
میدان میں تیزی سے ہونے والی پسپائی کے نتیجے میں سلفی العمالقہ بریگیڈز کے سیکڑوں اہلکار ان فورسز سے الگ ہوگئے اور حزب الاصلاح پر جنوبی یمن کی فورسز سے غداری کا الزام عائد کیا۔ یہ دھڑے بندی اس وقت سامنے آئی جب ان فورسز کے ٹھکانوں کو سعودی جنگی طیاروں نے بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا۔
دوسری جانب سعودی عرب کو جنوبی یمن سے مزید اہلکار بھرتی کرنے کے بحران کا سامنا ہے اور اس نے جنگ میں شرکت سے انکار کرنے والے گروہوں کو بمباری کی دھمکی دی ہے۔
لحج صوبے میں دوسری العمالقہ بریگیڈ کے قریبی ذرائع کی اطلاعات کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے اس بریگیڈ کے ٹھکانوں کے اطراف انتباہی حملے کیے۔ اس بریگیڈ کی قیادت نے کہبوب کے محاذ پر اہلکار بھیجنے سے انکار کیا تھا۔
عدن شہر میں قائم کمانڈ رومز سے کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی فوجی کمان نے بھی جنگ میں شامل ہونے سے انکار کرنے پر 22ویں العمالقہ بریگیڈ کو تحلیل کرنے کے فیصلے کی تصدیق کی ہے۔
اس سے قبل تیسری العمالقہ بریگیڈ کی کمان نے اپنے باغی اہلکاروں پر سعودی عرب کی بمباری کی دھمکیوں کے جواب میں اپنے تمام سازوسامان اور اسلحہ بغیر کسی لڑائی کے یمنی مسلح افواج کے حوالے کر دیا تھا۔
دھڑے بندی کا سلسلہ درع الوطن فورسز تک پہنچ گیا
جنوبی تعز کے محاذوں پر ایک سے زیادہ زمینی ذرائع کی اطلاعات کے مطابق دھڑے بندی کی لہر العمالقہ بریگیڈز سے آگے بڑھ کر درع الوطن فورسز تک بھی پہنچ گئی ہے۔ یہ سلفی فورسز ہیں جنہیں سعودی عرب نے تشکیل دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب گزشتہ روز علی الصبح نامعلوم افراد نے عدن اور لحج کے درمیان ایک علاقے میں موجود پہلی درع الوطن بریگیڈ کے کیمپ کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں بڑی تعداد میں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
آپ کا تبصرہ